مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسماعیل بقائی نے ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایرانی وفد کے ساتھ شرکت کے لیے جانے والے ایرانی صحافیوں اور میڈیا ٹیم کے ارکان کو ویزے جاری نہ کیے جانے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جب کوئی حکومت اپنے ملک کے میڈیا کو بھی معلومات تک رسائی سے روکتی ہے اور اسی وقت غیر ملکی صحافیوں، بالخصوص ایرانی صدر کی میڈیا ٹیم، کے لیے بھی راستے بند کردیتی ہے، جن کی آواز نہیں سنی جانا چاہتی، تو یہ محض معلومات تک رسائی کو محدود کرنا نہیں بلکہ حقیقت چھپانے کی کوشش اور معلومات تک رسائی کے حق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جھوٹی اور گمراہ کن معلومات کی مہم جاری رکھنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جس ملک نے ایک زمانے میں ’’آہنی پردہ‘‘ ہٹانے کو اپنے لیے باعثِ فخر قرار دیا تھا، آج وہ خود اپنے اندر ایک آہنی پردے میں گرفتار ہوچکا ہے۔
آپ کا تبصرہ